I
اینٹی نارکوٹکس فورس کے زیرانتظام منشیات جلانے کی سالانہ تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں مہمان خصوصی انسداد منشیات' ڈائریکٹر جنرل اینٹی نارکوٹکس فورس میجر جنرل عبدالمعید' ہلال امتیاز ملٹری نے شرکت کی۔ ان کے علاوہ سول/ملٹری آفیسرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں' یونیورسٹیوں اور کالجز کے سربراہان' طلبہ و طالبات اور این جی اوز کے ممبران کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ اس کے بعد فورس کمانڈر اینٹی نارکوٹکس پنجاب نے اپنے ابتدائی کلمات میں تقریب میں شرکا کو خوش آمدید کہا اور منشیات سے پاک معاشرے کے نظریے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اینٹی نارکوٹکس فورس کی کوششوں اور کارکردگی پر روشنی ڈالی۔ مزید انہوں نے اپنے خطاب میں بتایا کہ اے این ایف ہر سال پکڑے جانے والی منشیات کو تلف کرنے کی تقریب منعقد کرتی ہے جس کا مقصد آپ سب لوگوں کے ساتھ مل کر منشیات کے استعمال اور اس سے بچنے کا اعادہ کرنا ہے۔ اگر سول سوسائٹی کے اراکین حکومتی اداروں کے ساتھ مل کر اس جہاد میں حصہ لیں تو مجھے یقین ہے کہ ہم جلد اس خطرے پر قابو پا لیں گے۔ اس سال 18ٹن منشیات تلف کی گئی جس میں 1023 کلوگرام ہیروئن' 9927 کلوگرام چرس' 684 کلوگرام افیون' 80کلوگرام آئس' 5کلو گرام کوکین' 207کلوگرام Ecstasy Tablet اور مختلف قسم کی منشیات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سال کے دوران اب تک اے این ایف پنجاب نے منشیات کے سمگلروں کے خلاف 511کیسز درج کیے اور 604 افراد کو گرفتار کیا جبکہ منشیات کی سپیشل عدالت نے 69مجرموں کو عمر قید اور 238 مجرموں کو دیگر سزائیں سنائیں اور تقریباً 1000 کی قریب مختلف آگاہی پروگرام منعقد کروائی۔ تقریب کے آخر پر مہمان خصوصی ڈائریکٹر جنرل اینٹی نارکوٹکس فورس میجر جنرل عبدالمعید' ہلال امتیاز ملٹی نے تقریب سے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ اینٹی نارکوٹکس فورس اپنی قلیل نفری اور محدود وسائل کے باوجود جو منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث عناصر کیس رکوبی کیلئے بلاامتیاز کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے اور منشیات کے خلاف آگاہی مہم چلا کر اس کے استعمال میں کمی لانے کیلئے کوشاں ہے جبکہ منشیات کے عادی افراد کے علاج کی سہولت فراہم کر کے اس لعنت کے خلاف پوری طرح نبردآزما ہے۔ آج کی یہ تقریب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے اور یہ اینٹی نارکوٹکس فورس کی انتھک کاوشوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آج کے دن جلائی جانے والی منشیات اندرون ملک استعمال ہونا تھی یا پھر ملک سے باہر سمگل کی جانی تھی جس کو اینٹی نارکوٹکس فورس اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے اپنے فرض کی ادائیگی میں اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر پکڑا۔ اقوام عالم کی پاکستان سے اس جنگ میں توقعات ہمارے لئے بہت اہمیت کی حامل ہیں اور ہم بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے کنونشنز کی پاسداری کیلئے پرعزم ہیں۔